قائم کردہ اور زیر نگرانی ادارے

اپنی علمی، اصلاحی، اور فلاحی جدوجہد کے تحت، مولانا خالد ندوی غازی پوری مدظلہ العالی نے جمعیت المعارف الاسلامیہ کے زیرِ اہتمام کئی علمی و فلاحی ادارے قائم فرمائے ہیں۔ یہ ادارے آج بھی طلبہ، عوام اور امت مسلمہ کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

جامعہ امام ابو حنیفہ

سراوان، لکھنؤ

ایک نمایاں دینی ادارہ جہاں عربی اور عالمیت کے مکمل نصابات پڑھائے جاتے ہیں۔

جامعہ امیر علی شہید

اتر پردیش

اسلامی تعلیمات اور دینی اخوت کے فروغ کے لیے ان علاقوں میں قائم کیا گیا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

جامعہ الزہراء

خُدرہ، لکھنؤ

خواتین کی دینی تعلیم و تربیت اور اسلامی شعور بیدار کرنے کے لیے وقف ایک مؤثر ادارہ۔

مدرسہ رحمانیہ سراج العلوم

غازی پور

مولانا کے آبائی ضلع میں واقع ایک مدرسہ جہاں قرآن، حدیث اور عربی زبان کی تعلیم دی جاتی ہے۔

صفا پبلک اسکول

سیتاپور روڈ، لکھنؤ

ایک جدید تعلیم گاہ جو دینی اقدار اور عصری نصاب کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

فلاحی منصوبے
  • یتیموں کی کفالت

  • ٹیوب ویل اور ہینڈ پمپ کی تنصیب

  • خیراتی اسپتال اور طبی مراکز

  • مساجد کی تعمیر

"ادارے صرف عمارتیں نہیں، بلکہ وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں دل و دماغ کی تربیت اور نسلوں کی رہنمائی ہوتی ہے۔"

—مولانا خالد ندوی غازی پوری

تعلیم سے آگے بڑھ کر امت کی خدمت

مولانا خالد ندوی غازی پوری مدظلہ کی خدمات صرف تعلیم تک محدود نہیں — بلکہ ان کی کاوشوں میں سماجی فلاح، یتیم پروری، صحت عامہ، اور تعمیراتی منصوبے بھی شامل ہیں، جو جمعیت المعارف الاسلامیہ کے زیر اہتمام جاری ہیں۔